میں بچ گئی ماں

(یہ تحریر زہرہ نگاہ صاحبہ کی نظم سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔)

مصنف : ہانی رضا جعفری

سرکاری اہسپتال کے وراڈ میں جہاں بھانت بھانت کے لوگوں کی آمد درآمد جاری تھی ، مختلف لوگوں کا بےہنگم  شور ایسا تھا کہ جس سے  اعصاب پر تناؤ بڑھنے لگے،ادویات کی بو دماغ پر قابض ہورہی تھی۔ جگہ جگہ پھیلی گندگی انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت پیش کررہی تھی ۔ مگر ان سب سے بےنیاز ایک ماں تھی جو تنہا وراڈ کے آخری بستر پر سورہی تھی ، اسکے چہرے پر گہرے زخم کے نشان تھے، جو اپنی اس گہرائی میں رودادِ درد سموۓ بیٹھے تھے ۔

 وہ زخم یہ چیخ رہے تھے کہ کس بےدردی سے یہ ماں ماری گئی ہے اس باپ کے ہاتھوں جس کو

 میرا دین محافظ کہتا ہے ، مگر وہاں موجود اتنے لوگوں میں کوئی ان زخموں کی چیخیں نہ سن سکا ، انکے سینوں میں دل تو تھے مگر وہ تھے مہرزدہ ، قفل دار دل !

جہاں اس نے چار سال بعد پاکستان آنے والے اپنے خالہ زاد بھائی کو گھر آنے کی دعوت دی وہاں اس کے جھوٹے خدا کی چھوٹی سوچ نے ملاقات کے سبب میں غلیظ توجیہات گھڑلیں ،جس سے اسکی نام نہاد انا اور غیرت پر ہاتھ لگا  ۔

 پھر جو ہوا اسکا نتیجہ اس ماں کو  ہسپتال لے آیا اور شکم میں پلنے والی بچی بھی مردہ پیدا ہوئی ۔

ماں بستر پرسورہی تھی ، اس نے  ہونٹ مارے الم بھینچ رکھے تھے اور آنکھوں سے آنسو  طرزِ قطار بہ رہے تھے ، جن کے عکس میں آنکھوں کے اس پار کا دھندلا سا منظر دکھائی دے رہا تھا ۔

  ایک کمسن  بچی ہے جو ماں کے آنسوؤں کو ریشمی رومال  میں   جذب کرتی جارہی ہے اور ساتھ ساتھ ماں کو تسلی دے رہی ہے کہ :

“امی آخر میرے جانے کا تم کو روگ کیوں ہے اتنا؟ کیا تم میری خوشی کو نہیں سمجھتی ؟

 میں جہاں اب ہوں وہاں زیادہ محفوظ محسوس کرونگی ، یہاں تمہاری زمیں میں جو گدھ پلتے ہیں نا وہ نہیں ہوتے ، یہاں وہ جانور نہیں ہیں جو بھوک لگنے پر اپنے ہی خون کو شکار بنا لیں ،ادھر وہ حیوان  نہیں ہوتے جو اپنی حواس کی تسکین کی خاطر کسی کو بھی اپنا شکار سمجھ لیتے ہیں ، ادھر وہ غلیظ نظریں نہیں ہیں جو ہمہ وقت ہمارا تعاقب کرتی ہیں ۔ امی  تمھیں شاید معلوم نہیں ہے, یہاں وہ درندے نہیں ہوتے جن کے لیے میں صرف ایک گوشت کا ٹکرا ہوں ۔

پتا ہے امی ادھر مجھے کوئ خوف نہیں ہے ، وہ جو بہت ضروری ہوتی ہے  نہ“غزت” وہ میری یہاں محفوظ رہے گی ۔

 مجھے یہاں وہ آزادی میسر ہے جو ہر انسان کا حق ہے ، ادھر وہ مذہب کے ٹھیکدار نہیں ہیں جن کے دین کی بنیادیں میری تعلیم ، میرے لباس ، میری رائے اور  میری ترقی پسند سوچ سے اُکھڑنے لگ جائیں ۔

 امی میں تو  یہاں “جی” سکتی ہو ۔

 تم بے جا اداس ہوتی ہو ,میں تو بچ گئی ہوں حیوانیت کا نشان بننے سے ، میں تو بچ گئی ہوں اتنی بڑی زمین میں قید ہوجانے سے ، خوف کی زندگی سے میں بچ گئی ہوں ماں ،یہاں کوئ میرے پر نہیں کاٹے گا ، میری اڑان پر فتوے نہیں لگے گے ۔

  تم میری فکر نہ کرنا ادھر زمین والے خطرے تھوڑی ہوتے ہیں ۔

 مگر امی مجھے تمہاری فکر رہے گی تم تو ایک جنگل میں رہتی ہو نا !

 ایک بے قانون،

 بے اصول جنگل میں !

“خدا تمہارا حامی و ناصر ہو امی “

وہ کمسن بچی ماں کے خواب میں تحلیل ہی ہونے والی تھی کہ اچانک بولی :

“سنو سنو امی ، ایک بات تو کہنا بھول ہی گئی ، اگر ہو سکے  تو میری لاش کو جالا  ضرور  دینا ، میں نے سنا ہے تمہاری زمین میں تو قبریں بھی محفوظ نہیں ہوتیں ۔ “

=============================================

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *